ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹک وقف بورڈ کی تشکیل توہین عدالت کے کیس میں حکومت کوہائی کورٹ کا نوٹس

کرناٹک وقف بورڈ کی تشکیل توہین عدالت کے کیس میں حکومت کوہائی کورٹ کا نوٹس

Tue, 22 Oct 2019 10:30:30    S.O. News Service

بنگلورو،22؍اکتوبر(ایس او  نیوز)ریاستی حکومت کی طرف سے وقف بورڈ کی تشکیل میں غیر معمولی تاخیر اور اس سلسلہ میں ریاستی ہائی کورٹ کے حکم کی بھی پرواہ نہ کئے جانے کے خلاف وقف بورڈکے لئے منتخب چھ اراکین کی طرف سے دائر کی گئی توہین عدالت کی عرضی پیر کے روز ہائی کورٹ میں زیر سماعت آئی- جسٹس ناگرتنا جنہوں نے اس عرضی کی سماعت کی انہوں نے حکومت یا وقف بورڈ کی طرف سے کسی وکیل کی عدم موجودگی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریاست کے چیف سکریٹری اور محکمہ اقلیتی بہبود کوفوری نوٹس جاری کرنے کا حکم سناکر عرضی کی سماعت کو ملتوی کردیا- یا درہے کہ ریاستی حکومت کی طرف سے وقف بورڈ کی تشکیل کے مقصد سے چھ ماہ قبل بورڈ کے چار زمروں سے چھ ممبروں کا انتخاب کروایا گیا تھا ان میں پارلیمنٹ، لیجس لیچر، بار کونسل اور متولی شامل ہیں - ان اراکین کا انتخاب ہوکر چھ ماہ کا عرصہ گزرچکا ہے -تاہم وقف بورڈ کی تشکیل میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی - اس کے خلاف بورڈ کے منتخب ممبروں کی طرف سے سابق چیر مین ڈاکٹر محمد یوسف نے پہلے ہائی کورٹ سے رجوع کیا-اس مرحلے میں ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو یہ ہدایت دی تھی کہ دو ہفتوں کے اندر وقف بورڈ کی تشکیل کاعمل پورا ہو جانا چاہئے- لیکن اس حکم کے بعد بھی حکومت کی طرف سے ٹال مٹول کا سلسلہ جاری رہا- بورڈ کے لئے چار اراکین کو نامزد کرنے کے بہانے بورڈ کی تشکیل کو روک دیا گیا- بتایا جاتا ہے کہ بورڈ کے لئے حکومت کی طرف سے جن ممبروں کو بھی نامزد کیا گیا ان کے ناموں پر مختلف سیاسی حلقوں سے تکرار اور اعتراضات کے سبب کسی بھی نام پر مشتمل نوٹی فکیشن جاری نہ ہو سکے- کسی کا نام شامل کیا گیا تو ان کے متعلق انور مانپاڑی رپورٹ میں الزامات کا حوالہ دے کر اس نام کو ہٹادیا گیا - اس کے بعد کسی کا نام آیا تو ایک سیاستدان نے مداخلت کر کے اسے ہٹوادیا- ایک اور نام اس لئے ہٹ گیا کہ ان کے ادارے پر وقف بورڈ کی طرف سے وقف قوانین کی پامالی اورکرایہ نا دہندگی کی پاداش میں مقدمات درج ہیں - ایک خاتون افسر کا نام آیا تو وقف بورڈ کے سی ای او سے ان کے رشتے کو بنیاد بنا کر ان کا نام بھی ہٹادیا گیا- ا ب دیکھنا ہے کہ حکومت کی طر ف سے کن ناموں پر مشتمل نوٹی فکیشن جاری کر کے وقف بورڈ کو تشکیل دینے کی کوشش کی جائے گی تاکہ توہین عدالت سے بچاجاسکے -اگر وقف بورڈ کی تشکیل کے لئے حکومت کی طرف سے فوراً یہ قدم نہ اٹھائے گئے تو توہین عدالت کا الزام ثابت ہوجانے پر بہت مہنگا پڑ سکتا ہے-


Share: